Hindusthan Samachar
Banner 2 सोमवार, दिसम्बर 17, 2018 | समय 04:10 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

صدر جمہوریہ کو تنازعہ میں پھنسانے کے سبب اطلاعات و نشریات کی وزارت کے عہدے سے ہٹائی گئیں اسمرتی ایرانی

By HindusthanSamachar | Publish Date: May 18 2018 12:29PM
صدر جمہوریہ کو تنازعہ میں پھنسانے کے سبب اطلاعات و نشریات کی وزارت کے عہدے سے ہٹائی گئیں اسمرتی ایرانی
نئی دہلی،18مئی(ہ س)۔ فیک نیوز پر لگام لگانے کے بہارنے میڈیا پر لگام لگانے،صحافیوں سے ایکریڈیٹیشن ختم کرنے کے لئے کئے جا رہے عمل،پرسار بھارتی کے سر براہ سوریہ پرکاش سے لڑائی،ان کے آزاد ادارے کا بجٹ روکنے ،اپنے لوگوںکو موٹی تنخواہوں پر وہاں تقرری کرانے کی کوشش، وزارت کے ملازمین،صحافیوں سے غیر مناسب رویہ کے سبب میڈم اسمرتی ایرانی کو اطلاعات و نشریات کے وزیر کے طور پر بہت ہی تنازعہ میں گھری ہوئی تھیں۔اس کے بعد بھی ان کو ہٹایا نہیں جا رہا تھا لیکن جب صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند اور صدر سکریٹریٹ کو اسمرتی ایرانی نے فلموں اور فلمی ہستیوں کو قومی ایوارڈ دینے کے معاملے میں متنازعہ کر دیا ، اس کے بعد ان کو ہٹانا وزیر اعظم کی مجبوری ہو گئی ۔ اسمرتی ایرانی اور ان کی وزارت نے تب کہا تھا کہ صدر جمہوریہ صرف ایک گھنٹے کا وقت دیئے ہیں۔وہ صرف گیارہ فنکاروں کو ہی ایوارڈ دیں گے دیگر کو وزیر ایوارڈ دیں گے۔ معاملہ اتنا طول پکڑ لیا کہ وزیر اعظم کوان کو وزارت اطلاعات و نشریات میں بنائے رکھنا بھاری پڑنے لگا ۔ صدارتی محل میں فلموں کے قومی ایوارڈ تقریب میں صرف گیارہ فن کاروں کو ہی صدر جمہوریہ ایوارڈ دیں گے،130ایوارڈ وزیر اسمرتی ایرانی دیں گی یہ پتہ چلنے پر بہت سے فنکاروں نے ایوارڈ لینے کے لئے آنے سے منع کر دیا۔ پروگرام ہوا تو اس میں 60فن کار نہیں آئے ۔ اس کا بائیکاٹکر دیئے ۔ اس کے تنازعہ مزید بڑھ گیا ۔ صدارتی سکریٹریت نے وزیر اعظم دفتر کو خط لکھا کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے آخری وقت تک پورا پروگرام نہیں دیا تھا ۔ اس کے بعد وزیر اعظم کو وزیر اسمرتی ایرانی کو بچانا مشکل ہو گیا ۔ صدر سیکریٹیٹ کے خط سے واضح ہو گیا اور اس خدشے کو تقویت ملی کہ میڈم اسمرتی نے 130فلم والوں کو خود ایوارڈ دینے کے لئے یہ سب کیا ۔ اتنا ہی نہیں جب اس پر تنازعہ ہوا تو اپنے کو بچانے کے لئے اس کا ٹھیکرا صدر جمہوریہ رام ناتھکووند اور ان کے دفتر پر پھوڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے صدر بہت دلبرداشتہ ہوئے تھے اور انہوں نے ناراضگی کا اظہار کیا تھا ۔ جو اسمرتی ایرانی پر الٹا اثر پڑ گیا ۔ اس سلسلے میں سابق وزیر ک اکہنا ہے کہ اگر یہ نہیں ہوتا تو وزارت اطلاعات ونشریات کے عہدے سے میڈم نہیں ہٹائی گئی ہوتیں۔ اسمرتی کو مئی 2014میں پہلی بار کابینہ وزیر بنا کر فروغ انسانی وسائل کی وزارت سونپی گئی تھی ۔ وہاں وزیر رہتے انہوں نے جو کچھ کی ااس کے تنازعہ کے سبب اپوزیشن کے نشانے پر سرکار آ گئی تھی ۔ تب ان کو ہٹا کر کپڑا وزیر بنایا گیا لیکن اگست 2017میں جب وزارت اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو کو نائب صدر بنایا گیا تو ان کی وزارت کا انچار ج اسمرتی ایرانی کو دے دیا گیا ۔ اب ان کے پاس صرف کپڑا وزارت رہ گیا ہے ۔ ہندوستھان سماچار_رادھا رمن _عطا
image