Hindusthan Samachar
Banner 2 रविवार, अप्रैल 21, 2019 | समय 08:31 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

جامعہ اردو علی گڑھ کو قومی سطح کا ادارہ اعلان کیا جائے:سابق یو جی سی ممبر پروفیسر ایم ایم انصاری

By HindusthanSamachar | Publish Date: Apr 17 2019 9:19PM
جامعہ اردو علی گڑھ کو قومی سطح کا ادارہ اعلان کیا جائے:سابق یو جی سی ممبر پروفیسر ایم ایم انصاری
جامعہ اردو علی گڑھ کا 80یوم تاسیس منایا گیا،اردو زبان کو روزگار سے جوڑنے سے متعلق سیمینار کا اہتمام علی گڑھ17 اپریل(ہ س)۔ جامعہ اردو علی گڑھ نے اپنا 80 واں یوم تاسیس منایا، یہ کوئی معمولی تقریب نہیں ہے، اس میں شک نہیں کہ جامعہ اردو علی گڑھ نے ملک کی آزادی آور اس کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ باتیں اردو زبان کو روزگار سے جوڑنے سے متعلق ہوئے سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے یوجی سی کے سابق ممبر پروفیسر ایم ایم انصاری نے کہیں. وہ بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ ملک کانہایت اہم ادارہ ہے۔اب حکومت ہند کو پارلیمنٹ میں قانون کے ذریعے جامعہ اردو علی گڑھ کو قومی اہمیت کا حامل ادارہ قرار دے دینا چاہیے۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مانو حیدرآباد کے چانسلر فیروز بخت احمد نے کہا کہ جامعہ اردو علی گڑھ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا. جامعہ اردو کا سب سے اہم کردار یہ ہے کہ اس نے اردو ذبان کو روزگار سے جوڑنے کی طرف مثبت قدم اٹھایا ہے،جس کے نتیجے میں جامعہ اردو کے طلبا کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔انہوں نے کہ کہ جامعہ اردو نے اس اہم کام کی طرف پیش قدمی کی ہے جس کے بارے میں لوگ صرف بات کرتے تھے لیکن جامعہ نے عملی قدمی اٹھایاہے جو نہایت خوش آئند ہے۔ مہمان اعزازی اور راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر مشرف عالم ذوقی نے کہا کہ جامعہ اردو اور مدارس کے بچوں کو میڈیا میں آنا چاہیے. کیونکہ موجودہ دور میں میڈیا سماج اور دیش میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ آئیڈیا کا زمانہ ہے ،اس لئے اردو کے طلبا کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کس طرح اس کو عوام تک پہنچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نیٹ فلکس اور سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں اردو سب سے کار گر زبان کے طور پر سامنے آئی ہے،بس ضرورت ییہ ہے کہ اردو کے لوگ یہ جان لیں کہ اس سے کیسے کمایا جا سکتا ہے اس کو روزگار سے کیسے جوڑا جا سکتا ہے،انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہ اگر آپ کوئی ویڈیو اردو میں بناتے ہیں خواہ وہ کھانا بنانے کا طریقہ ہی کیوں نہ ہو تو کیا آپ کو اس سے پیسے نہین ملیں گے؟انہوں نے کہا اسی طرح ہمیں میڈیا کے ذرائع پر غور کرنا چاہئے جس میں سب سے زیادہ اردو زبان کا ہی استعمال ہو رہا ہے۔ مہمان اعزازی اور این آئی او ایس کے سا بق ڈائریکٹر ڈاکٹر کلدیپ اگروال نے کہا چونکہ جامعہ اردو علی گڑھ اپنے طلبا کو این سی آر ٹی کے نصاب مطابق تعلیم دے رہا ہے اس لیے وہ کسی بھی امتحان میں کامیاب ہو سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ جامعہ اردو کو این آئی او ایس کی مساوی ڈگری دی جانی چاہیے جس سے طلبا کے لیے اعلی تعلیم کے دروازے کھلیں گے. اس سے قبل مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے فہد علی خاںنے کہا کہ آج ہم گلوب لائزیشن کے دور میں جی رہے ہیں۔ جس میں مقابلہ کے ذریعہ ہی ترقی مل سکتی ہے۔اس لیے جامعہ اردو کو یہ باتیں ذہن میں رکھ ہی تعلیم دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم صرف اردو زبان کو روزگار سے نہیں جوڑ رہے ہیں بلکہ یہ بھی کوشش کر رہے ہیں کہ مدارس کے طلبا کوکاروبار اور کمپیوٹر کی تعلیم دی جائے.انہوں نے کہا کہ جامعہ ملک و قوم کی خدمت انجام دے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جس طرح جامعہ کے نصاب کو روزگار کے لئے منظوری دی ہے اسی طرح ریاستی بورڈوں کے مساوی ڈگری دی جانی چاہیے۔انہوںنے کہا کہ یہ صرف ایک تقرییب نہین ہے بلکہ ہم نے مہمانوں کو اس لئے مدعو کیا ہے تاکہ آئندہ کا سفر اسی کی روشنی مین کیا جا سکے۔سیمنار کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر رضااللہ خاں نے کہا کہ جامعہ اردو نے نہ صرف اردو زبان کو فروغ دیا بلکہ ملک کی تعمیر نو میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہ ماہرین تعلیم کو جامعہ اردو کی نصاب تعلیم کی تیاری میں مدد کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر خلیل چودھری اور ڈاکٹر محمد فاروق خان،مدیر ادیب ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی نے بھی اپنے خیالات کا ظہار کیا۔ افنان علی خان نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔جبکہ سیمنار کی نظامت ڈاکٹر فرقان سنبھلی نے کیا۔یوم تاسیس کے موقع پر جامعہ اردو کے ترجمان سہ ماہی رسالہ ادیب اور کافی ٹیبل بک ایک سفر اردو کے لیے اور فرحت علی خاں کی مدون کتاب مضامین سر سید کا رسم اجرا بھی ادا کی گئی.اس موقع پرناصر ،شارق ،مامون رشید ،حامد رضا ،مریم بتول،تجمل حسین ،نثار،فرید،عرفان ورشا رانی،نجم الزماں،امتیاز وغیرہ قابل ذکر افراد موجود رہے۔ ہندوستھان سماچار#محمدخان
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image