Hindusthan Samachar
Banner 2 शुक्रवार, अप्रैल 19, 2019 | समय 22:21 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

بی جے پی کیلاش وجے ورگیہ کا کیریئر بھی ختم!

By HindusthanSamachar | Publish Date: Apr 17 2019 9:20PM
بی جے پی کیلاش وجے ورگیہ کا کیریئر بھی ختم!
مجبوری میں سومیترا مہاجن کے انتخاب لڑنے کے بعدپارٹی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے بھی الیکشن لڑنے سے کیا انکار بھوپال،17اپریل( ہ س)۔ بی جے پی کے کئی سینئر لیڈروں کو لوک سبھا انتخاب کے لیے ٹکٹ نہ دیئے جانے کے بعد ایسے امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ کو بھی ٹکٹ نہیں ملے گا۔ یہ ظاہر ہونے سے پہلے کہ انھیں ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، کیلاش وجے ورگیہ نے پہلے ہی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔اس سے قبل اعلیٰ کمان کی طرف سے دباو¿ بنائے جانے کے بعد سومیترا مہاجن نے بھی ایک خط لکھ کر اپنے انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔کیلاش وجے ورگیہ نے بدھ کے روز اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اعلان کیا۔ ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ”اندور کی عوام، کارکنان و ملک بھر میں موجود خیر خواہوں کی خواہش ہے کہ میں لوک سبھا انتخاب لڑوں، لیکن ہم سبھی کی ترجیحات خوشحال ہندوستان کے لیے نریندر مودی کو پھر سے پی ایم بنانا ہے۔ مغربی بنگال کی عوام مودی کے ساتھ کھڑی ہے، میرا بنگال میں رہنا فرض ہے، اس لیے میں نے انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ لیا ہے۔“ ورجے ورگیہ نے اپنے ٹوئٹ میں آگے لکھا ہے کہ ”امید ہے کہ آپ بھی ملک کے مفاد اور پارٹی کے مفاد میں لیے گئے میرے فیصلہ سے متفق ہوں گے اور پارٹی جنھیں بھی امیدوار بنائے گی، ان کی جیت کے لیے جی جان سے لگ جائیں گے۔ میری نہ صرف اندور بلکہ پورے ملک کے ووٹروں سے گزارش ہے کہ این ڈی اے جیسی مضبوط حکومت اور مودی جی جیسے مضبوط پی ایم کے لیے ووٹنگ کریں۔ یہی گزارش ہے۔“ ایک دیگر ٹوئٹ میں وجے ورگیہ نے لکھا ہے کہ ”بی جے پی کے ہر کارکن کا اصول ہے ’نیشن فرسٹ، پارٹی سیکنڈ، سیلف لاسٹ‘۔ جہاں سوال ملک کے مفاد اور پارٹی کے مفاد کا ہو، وہاں خود کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔ ہمارے سامنے مغربی بنگال میں پارٹی کو زیادہ سے زیادہ سیٹیں جتانے کا ہدف ہے، یہ ہدف جتنا بڑا ہے اتنا ہی بڑا چیلنج بھی ہے۔“قابل غور ہے کہ اس بار لوک سبھا انتخاب کے لیے کانگریس نے اندور سے پنکج سنگھوی کو امیدوار بنایا ہے جب کہ بی جے پی نے اب تک اپنے امیدوار کا انتخاب نہیں کیا ہے۔ واضح رہے کہ کیلاش کے علاوہ گزشتہ 8 انتخاب سے لگاتار جیتتی آ رہیں سمترا مہاجن بھی پارٹی کے 75 سال کی عمر پار کر چکے لوگوں کو امیدوار نہ بنائے جانے کے فیصلے کو دھیان میں رکھ کر خود ہی انتخاب لڑنے سے انکار کر چکی ہیں۔ ہندوستھان سماچار#محمدخان
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image