Hindusthan Samachar
Banner 2 शुक्रवार, अप्रैल 19, 2019 | समय 22:13 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

لوک سبھا انتخابات میں دو بار صرف 9 ووٹوں سے ہوئی شکست و فتح

By HindusthanSamachar | Publish Date: Apr 17 2019 9:20PM
لوک سبھا انتخابات میں دو بار صرف 9 ووٹوں سے ہوئی شکست و فتح
نئی دہلی،17اپریل(ہ س)۔ ملک میں عام انتخابات کے دوران کئی بار مقابلے کتنے کانٹے کے ہوجاتے ہیں اس کا اندزاہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو مواقع پر صرف نو ووٹوں سے امیدواروں کی ہار جیت ہوئی ہے۔ پہلی بار 1989 کے انتخابات میں آندھرا پردیش کے انا?اپلی سیٹ پر کانگریس امیدوار کے رام کرشن تیلگو دیشم پارٹی کے اپالا نرسنگھم سے صرف نو ووٹوں سے جیت درج کی تھی۔ رام کرشن کو 299109 اور نرسنگھم کو 299100 ووٹ ملے تھے۔ اس الیکشن میں صرف تین امیدوار ہی انتخابی میدان میں تھے۔ سال 1998 میں بہار کے راج محل سیٹ پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوم مرانڈی بھی نو ووٹ سے منتخب ہوئے تھے۔ مرانڈی نے کانگریس امیدوار تھامس کنسدا کو ہرایا تھا۔ مرانڈی کو 198889 اور کنسدا کو 198880 ووٹ آئے تھے. اس الیکشن میں کل 11 امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ سال 1962 کے عام انتخابات میں ہوئے ہار جیت کا سب سے کم فرق 42 ووٹوں کا رہا تھا. اس انتخابات میں بیرونی منی پور حلقہ سے سوشلسٹ پارٹی کے رسانگ کانگریس کےسیوو لارکو سے 42 ووٹوں سے ہا ر گئے تھے۔ رسانگ کو 35621 اور لارکو کو 35579 ووٹ ملے تھے. اس الیکشن میں کل پانچ امیدواروں نے انتخاب لڑا تھا۔ اس کے بعد 1967 میں ہوئے انتخابات میں ہریانہ کے کرنال سیٹ پر کانگریس کے ایم رام نے بھارتیہ جن سنگھ کے آر نند کو 203 ووٹ سے شکست دی تھی۔ شری رام کو 168204 اور نند کو 168001 ووٹ آئے تھے۔ سال 1971 کے عام انتخابات میں تمل ناڈو کے تری چیندور سیٹ سے دراوڑ منتر کشگم کے رہنما ایم ایس سواسامی نے سوتنتر پارٹی کے ایم مٹیاس سے 26 ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوئے تھے۔ سواسامی کو 202783 اور مٹیاس کو 202757 ووٹ ملے تھے۔ اس انتخاب میں صرف تین امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔اسی طرح سے 1977 کی جنتا پارٹی لہر والے انتخابات میں مہاراشٹر کے کولہاپور لوک سبھا سیٹ سے پیزنٹ اینڈ ورکرز پارٹی کے بلونت راو¿ دیسائی کانگریس کے شنکرراو¿ دتاتریہ سے 165 ووٹوں سے کامیاب ہوئے تھے۔ دیسائی کو 186077 اور دتاتریہ کو 185912 ووٹ ملے تھے۔اس انتخاب میں تین امیدواروں کے درمیان مقابلہ آرائی ہوئی تھی۔ سال 1980 کے انتخابات میں اتر پردیش کے دیوریا حلقہ سے کانگریس (آئی) کے امیدوار رامائن رائے اور جنتا پارٹی (ایس) کے رام دھار شاستری کے درمیان کانٹے کی ٹکر میں 77 ووٹ سےے ہار جیت کا فیصلہ ہوا تھا۔ رائے کو 110014 اور شاستری کو 109937 ووٹ آئے تھے۔ اس الیکشن میں کل آٹھ امیدوار انتخابی میدان میں تھے۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں ہوئے انتخابات میں پنجاب کے لدھیانہ سے شرومنی اکالی دل کے میوہ سنگھ 140 ووٹوں سے فتح ہوئے تھے۔سال 1991 کے عام انتخابات میں اتر پردیش کے اکبر پور لوک سبھا حلقہ سے جنتا دل کے رام اودھ 156 ووٹوں سے منتخب ہوئے تھے۔ شری رام اودھ نے بی جے پی کے بیچن رام کو شکست دی تھی۔شری رام اودھ کو 133060 اور شری بیچن رام کو 132904 ووٹ آئے تھےاس الیکشن میں کل 14 امیدوار تھے۔ ہندوستھان سماچار#محمدخان
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image