Hindusthan Samachar
Banner 2 रविवार, अप्रैल 21, 2019 | समय 08:21 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

منڈیا، تمکرو اور ہاسن لوک سبھا سیٹ پر عزت بچانے کے لئے جے ڈی ایس نے جھونکی پوری طاقت

By HindusthanSamachar | Publish Date: Apr 17 2019 7:24PM
منڈیا، تمکرو اور ہاسن لوک سبھا سیٹ پر عزت بچانے کے لئے جے ڈی ایس نے جھونکی پوری طاقت
بنگلور، 17 اپریل (ہ س)۔ کرناٹک ریاست کی تین لوک سبھا سیٹوں پر حکمراں جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے۔ اس بار منڈیا، تمکرو اور ہاسن لوک سبھا سیٹ پر دیوگوڑا خاندان کے ارکان نے اپنی جیت درج کرانے کے لئے پوری طاقت لگا رکھی ہے۔ اگرچہ چینلوں کے سروے کے مطابق ان کی جیت پکی ہے لیکن اس کے برعکس کچھ لوگوں کی رائے سے ان کی جیت پر خدشہ پیداہونا فطری بھی ہے۔ ان سیٹوں پر بی جے پی نے اپنی سیاسی بساط بچھا رکھی ہے، جو انتخابی کے نتائج کے ساتھ جے ڈی ایس کے سیاسی مستقبل کو متاثر کر سکتی ہے۔ اگرچہ جے ڈی ایس دیگر سیٹوں پر بھی انتخابی میدان میں ہے، لیکن وہاں ان تین نشستوں کے مقابلے اتنی زیادہ کوشش نہیں کی جا رہی ہیں۔ پارٹی کے قدآور رہنماو¿ں نے اس طرح کے حیرت انگیز نتائج کے خدشات کے کئی وجوہات بھی بتائے ہیں، جو مقامی نجی ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پراندازوں کے برعکس ہیں۔ دو ٹی وی چینلوں نے ان تین اہم حلقوں کے بارے میں سروے کے نتائج کو نشر کیا ہے، جو ریاست میں ہی نہیں بلکہ ملک میں بھی لوگوں کی نظر میں ہے۔ ایک چینل نے دعوی کیا ہے کہ وزیر اعلی ایچ ڈی کماراسوامی کے اداکار بیٹے نکھل کماراسوامی 1.80 لاکھ ووٹوں کے بڑے فرق سے جیت جائیں گے اور ایک اوربڑے گروپ سے منسلک چینل نے بھی ان کی جیت کے بارے میں اشارہ دیا ہے۔ سروے میں دعوی کیا گیا ہے کہ منڈیا سیٹ سے 43 فیصد لوگوں نے بی جے پی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار سملتا امبریش کی حمایت کی، جبکہ 58 فیصد نے ان کی شکست کا اشارہ دیا ہے۔ سال 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران اس وقت کے کانگریس لیڈر اور اس وقت جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ وشوناتھ نے اس پارٹی کو ’باپ اور بیٹوں کی پارٹی‘ کی پارٹی کہا تھا تب وشوناتھ مےسور لوک سبھا حلقہ سے کانگریس کے امیدوار تھے۔ موجودہ سیاسی حالات میں ان تینوں سیٹوں پر جے ڈی اےس کی ہار جیت پر ان کا سیاسی مستقبل ٹکا ہے۔ جب سوال وجود کا ہو تو ایچ ڈی دیوگوڑا اور ان کے خاندان کا دن رات پسینہ بہانہ یقینی ہے۔ ان تین سیٹوں پر تمکرو پر سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا، منڈیا سے وزیر اعلیٰ کماراسوامی کے بیٹے نکھل کمار اور ہاسن لوک سبھا سیٹ سے وزیر ایچ ڈی رےونا کے بیٹے پرجول رےونا میدان میں ہیں۔ان تینوں سیٹوں کے انتخابی نتائج پر پوری ریاست کی نظر ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا تھا کہ جے ڈی اےس نے 28 لوک سبھا سیٹوں میں سے 12 نشستوں کا مطالبہ کرتے ہوئے سودے بازی کی حکمت عملی شروع کی اور بعد میں آٹھ سیٹوں پر ہی الیکشن لڑنے پر اتفاق ہو گیا۔ سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ اتحاد کے ساتھی جے ڈی اےس کے پاس ان آٹھوں حلقوں سے انتخاب لڑنے کے لئے اچھے امیدوار تک نہیںملے۔ اس کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ جب جے ڈی اےس کو بنگلور شمال اور اڈپی-چکم گلرو سیٹ کے لئے مناسب امیدوار نہیں ملا۔ اڈپی-چکم گلرو میں مئی 2018 کے اسمبلی انتخابات میں بری طرح شکست کھانے والے سابق ضلع انچارج کانگریس وزیر پرمود مادھوراج کو الیکشن لڑنے کے لئے منتخب کیا گیا۔ جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوگوڑا کو الیکشن لڑنے کے لئے تمکرو جانا پڑا۔ امیدکے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس الیکشن میں منڈیا، تمکرو اور ہاسن میں انتخاب لڑنے والے جے ڈی ایس امیدواروں کو لے کر اقرباءپروری کو ایشو بنا دیا ہے۔ جے ڈی اےس کیڈر میں بھی اس معاملے کو لے کر کافی ہنگامہ ہو چکا ہے۔ اگرچہ کمل کمار، جو ابھی تک ہاسن میں بھگوا پارٹی کے کٹر حامی تھے، انتخابات کے موقع پر جے ڈی اےس کے ساتھ آئے۔ کمل کمار ایک تجربہ کار وکیل کی طرح بحث کرتے ہیں۔ وہ ایچ ڈی دیوگوڑا خاندان کے عام کارکنوں کو مرکزی دھارے کی سیاست سے واقف کرانے کی کوششوں اور بعد میں اقتدار کے پھل سے لطف اندوزہونے کے بعد خاندان کو نیچا دکھانے کی کوششوں کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس خاندان نے ہی اےچ کے جوریگوڑا کو ان کا ایک روپیہ خرچ کرائے بغیر راجیہ سبھا ممبر بنایا تھا لیکن بعد میں انہوں نے پارٹی چھوڑنا پسند کیا۔کمل نے کہا کہ جورےگوڑا صرف ایک الگ معاملہ نہیں ہے، ایسی کئی مثال ہیں جنہیں ’ممبر اسمبلی، ایم ایل سی اور ایم پی‘بنایا گیا ہے۔ حالانکہ پارٹی کے نام میں سیکولر لفظ جڑا ہوا ہے، لیکن تمام عملی مقاصد کے لئے جے ڈی ایس مکمل طور پر اپنے سیاسی وجود کے لئے پرانے مےسور (جنوبی کرناٹک) کے علاقے میں مٹھی بھر وکا لگا کمیونٹی پر منحصر ہے۔ منڈیا ضلع کے ملولی ریزرو اسمبلی حلقہ میں کھاد کی دکان کے مالک مہیش کے مطابق، ضلع کے تمام آٹھ اسمبلی حلقوں میں جے ڈی ایس کے ممبر اسمبلی ہیں اور ان کے علاوہ ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں۔ ووکالگا کے لوگ کٹر جنتادل سیکولرکے پرستار ہیں۔مقامی مسائل اور افراد پر جے ڈی اےس اور کانگریس کارکنوں کے درمیان اختلافات ہیں۔ لہٰذا بی جے پی کو 20-25 فیصد ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ بدلتی سیاست میں دیوگوڑا خاندان نے پہلے کبھی اس طرح کے حالات کا سامنا نہیں کیا۔ آج وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کماراسوامی گزشتہ تین دنوں سے منڈیا ضلع میں کیمپ کئے ہوئے تھے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے وزیر ایچ ڈی رےونا بھی ہاسن ضلع سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔ہاسن سے ایچ ڈی رےونا کے بیٹے پرجول رےونا امیدوار ہیں۔ اس سیٹ پر ایچ ڈی دیوگوڑا پانچ بار نمائندگی کر چکے ہیں۔منڈیا میں جے ڈی اےس امیدوار نکھل کمار کے خلاف آزاد امیدوار سابق ایم پی کی اہلیہ اور فلم اداکارہ سملتا سخت ٹکر دے رہی ہیں۔ سملتا کو بی جے پی نے حمایت دے رکھی ہے۔دیوگوڑا خاندان کے بارے میں ابھی تک کہا جاتا تھا کہ ان کے لئے انتخابات بچوں کا کھیل ہے،لیکن اس بار انتخابات میں حالات منفی نہ ہوتے ہوئے بھی خاندان سخت محنت کر رہا ہے۔ ان کے مخالفین بھی جانتے ہیں کہ دیوگوڑا خاندان کوئی نیا نہیں ہے۔ وہ مخالفین کو شکست دینے کے لئے سارے ہتھکنڈے جانتے بھی ہیں۔ ہندوستھان سماچار#محمدخان
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image