Hindusthan Samachar
Banner 2 रविवार, अप्रैल 21, 2019 | समय 08:09 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

دوسرے مرحلے میں جمعرات کو طے ہوں گے سیاسی قد آورلیڈروں کے ساتھ سیلیبریٹی چہروں کی قسمت

By HindusthanSamachar | Publish Date: Apr 17 2019 6:54PM
دوسرے مرحلے میں جمعرات کو طے ہوں گے سیاسی قد آورلیڈروں کے ساتھ سیلیبریٹی چہروں کی قسمت
لکھنو¿، 17 اپریل (ہ س)۔ لوک سبھا انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مغربی اترپردیش کی آٹھ سیٹوں پر جمعرات کو پولنگ ہوگی۔ اس ووٹنگ میں سیاسی قد آور لیڈروں کے ساتھ سےلےبرٹی چہروں کی بھی قسمت طے ہوگی۔ دوسرے مرحلے میں نگینہ (محفوظ)، امروہہ، بلند شہر (محفوظ)، علی گڑھ، ہاتھرس (محفوظ)، متھرا، آگرہ (محفوظ) اور فتح پور سیکری کے لئے صبح سات بجے سے شام چھ بجے تک ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پرامن پولنگ کے لئے سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔پردیش کے چیف الیکشن افسر ایل وینکٹیشور لو کے مطابق دوسرے مرحلے کی پولنگ میں اور بہتر سہولیات دستیاب کرائی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے کی پولنگ کے تجربات کی بنیاد پر بہتر انتخابات کے انتظام کے نظام کو یقینی بنانے کی ہدایات حکام کو دیئے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پہلے مرحلے میں ریاست کی آٹھ سیٹوں پر 11 اپریل کو پولنگ ہوئی تھی۔ اس کے بعد چیف الیکشن افسر نے پولنگ کو لے کر دوبارہ جائزہ میٹنگ کی تھی اور حکام اگلے مرحلے کے رائے دہندگان کو بہتر انتظامات کی ہدایات جاری کئے تھے۔ دوسرے مرحلے میں کل 87 امیدوار دوسرے مرحلے کی آٹھ نشستوں کے کل 87 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ ان میں نگینہ سیٹ سے سات، امروہہ میں دس، بلند شہر میں نو، علی گڑھ میں 14، ہاتھرس میں آٹھ، متھرا میں 13، آگرہ میں 11 اور فتح پور سیکری میں 15 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔ 1.40 کروڑ ووٹر دوسرے مرحلے کے پارلیمانی علاقوں میں ووٹروں کی کل تعداد 1.40 کروڑ ہے جن 75.83 لاکھ مرد، 64.92 لاکھ عورت اور 878 تیسری جنس کے ووٹر ہیں۔ ان انتخابی حلقوں میں کل 8751 پولنگ سٹیشن اور 16162 ووٹنگ سائٹ قائم کئے گئے ہیں۔ بہت سے قد آور لیڈروں کی ساکھ داو¿ پر دوسرے مرحلے کی پولنگ میں بہت سے قد آور لیڈروں کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے۔ ان میں فلم اسٹار ہیما مالنی اور راج ببر کے انتخابی میدان میں ہونے سے سیاست میں گلیمر کا تڑکا نظر آ رہا ہے۔ ریاستی حکومت کے کابینہ وزیر پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل اور سبکدوش ہونے والے ممبران پارلیمنٹ کی بھی ساکھ داو¿ پر لگی ہے۔ ہاتھرس سے سابق مرکزی وزیر رام جی لال سمن بھی اس مرحلے کے انتخابی میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ قومی لوک دل (آر ایل ڈی) سربراہ اور سابق مرکزی وزیر چودھری اجیت سنگھ اور ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور اس وقت راجستھان کے گورنر کلیان سنگھ جیسے لیڈروں کا گڑھ ہونے کی وجہ سے اس مرحلے کے انتخابات میں بی جے پی، ایس پی-بی ایس پی-آر ایل ڈی اتحاد اور کانگریس سب کی طاقت پرکھی جائے گی۔ گزشتہ انتخابات میں اس مرحلے کی تمام سیٹوں پر بی جے پی کا قبضہ تھا۔ آلو ہوگا اہم مسئلہ پہلے مرحلے کی پولنگ اترپردیش کی آٹھ سیٹوں پر 11 اپریل کو ہوئی تھی، جس میں اہم مسئلہ گنا تھا۔ دوسرے مرحلے کی پولنگ میں آلو اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔ دراصل پردیش میں دوسرے مرحلے کے زیادہ تر اضلاع میں آلو کی کاشت کی جاتی ہے۔ ویسے اس مرحلے میں صفائی اور گندہ پانی جیسے مقامی مسائل بھی موثر ہوتے ہیں۔ آگرہ اور متھرا میں جمنا کی صفائی کو بھی ایشو بنایا جا رہا ہے۔ ہندوستھان سماچارعطا
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image