Hindusthan Samachar
Banner 2 रविवार, अप्रैल 21, 2019 | समय 10:02 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

پاکستان نے صحافیوں کو نہیں دکھایا بالاکوٹ ٹریننگ کیمپ: نرملا سیتا رمن

By HindusthanSamachar | Publish Date: Apr 17 2019 6:55PM
پاکستان نے صحافیوں کو نہیں دکھایا بالاکوٹ ٹریننگ کیمپ: نرملا سیتا رمن
نئی دہلی، 17 اپریل (ہ س)۔ وزیر دفاع نرملا سیتا رمن نے پاکستان کے حکام کی جانب سے غیر ملکی سفارت کاروں اور صحافیوں کو بالاکوٹ لے جانے کو ایک پکنک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو وہ ٹریننگ کیمپ ہی نہیں دکھایا گیا جہاں دہشت گردوں کو خصوصی تربیت دی جاتی تھی۔ وزیر دفاع سیتا رمن نے ایک نیوز ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سفارت کاروں اور صحافیوں کے پارٹی کو بالاکوٹ میں واقع جابا پہاڑی علاقے میں نشیبی حصے پر بنے ایک مدرسے کو دکھایا گیا۔ واقعی میں بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے اس مدرسے کو نشانہ ہی نہیں بنایا تھا۔ اونچائی پر واقع ٹریننگ کیمپ کو ہندوستانی فضائیہ نے تباہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بالاکوٹ میں کتنے لوگ ہلاک اور کتنا نقصان ہوا، اس بارے میں حقائق کی معلومات دینے کی ذمہ داری پاکستان حکومت پر ہے۔ جہاں تک بھارت کا تعلق ہے ہمارے جنگی طیاروں نے اپنا مقصد حاصل کیا۔ بالاکوٹ حملے کے بارے میں مغربی ممالک کی میڈیا میں شک کا اظہار کئے جانے پر سیتا رمن نے کہا کہ جب کوئی غیر ملکی حکومت بھارت کے دعوے پر انگلی نہیں اٹھا رہی ہے تو میڈیا کی جانب سے سوال کیوں کھڑے کئے جا رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بالاکوٹ میں گزشتہ 26 فروری کو بھارتی فضائیہ کی کارروائی کے چالیس دن بعد پاکستان نے وہاں واقع غیر ملکی سفارت خانوں کے حکام اور صحافیوں کو بالاکوٹ کا دورہ کرایا تھا۔ اس وفد کو وہاں ایک مدرسہ دکھایا گیا، جہاں بچوں کو مذہبی تعلیم دی جا رہی تھی۔ گھومنے پھرنے کے بعد بہت سے غیر ملکی حکام نے کہا کہ واقعہ کے کافی دن بعد انہیں اس علاقے کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اس علاقے میں کیا ہوا تھا اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ وزیر دفاع نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے بھارت میں نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کے سلسلے میں دیے گئے مثبت بیان کو کانگریس کی چال بتایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے کئی اہم رہنما پاکستان کے دورے کے دوران کہہ چکے ہیں کہ ''مودی کو ہٹانے کے لئے ہمیں مدد کرو ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا بیان بھی اسی منصوبہ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ سیتا رمن نے کچھ سابق فوجی حکام کی طرف سے صدر کو فوجیوں کا استعمال سیاست کےلئے کے جانے کے سلسلے میں بھیجے گئے خط پر کہا کہ اس کا اعتماداس وقت ختم ہو گیا جب متعدد حکام نے کہا کہ انہوں نے خط پر دستخط نہیں کئے تھے۔ وزیر دفاع کے مطابق تمام لوگ فوج کا سیاسی استعمال نہ کئے جانے کے حق میں ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی قوت ارادی اور فوج کو کھلی چھوٹ دینے سے متعلق فیصلے کا کام حکومت کے حصے میں ہی آتا ہے۔ ہندوستھان سماچارعطا
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image