Hindusthan Samachar
Banner 2 गुरुवार, मार्च 21, 2019 | समय 21:35 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

پروفیسر عنوان چشتی کے حیات وکارنامے کے عنوان سے قومی سیمینار کا انعقاد

By HindusthanSamachar | Publish Date: Mar 16 2019 8:57PM
پروفیسر عنوان چشتی کے حیات وکارنامے کے عنوان سے قومی سیمینار کا انعقاد
دیوبند، 16 مارچ (ہ س)۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی اور شاہ ولایت ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام پروفیسر عنوان چشتی کے حیات وکارنامے کے عنوان سے ایک روزہ قومی سیمینار شاہ ولایت موڈرن گرلز پبلک ہائی اسکول منگلور میں منعقد ہوا جس میں شعراءاور ادباءنے شرکت کی ۔ اس دوران ادیب، صحافی اور ائمہ کو اعزاز سے نوازا گیا ۔ اس موقع پر پروفیسر قاضی عبدالرحمن ہاشمی نے کہا کہ پروفیسر عنوان چشتی کی شاعری اس عہد کی سب سے معتبر ، مقدس اور سب سے وقیع ادبی سرمایہ ہے ۔ پروفیسر وہاج الدین علوی ، ڈین فیکلٹی آف ہیو مینٹیز جامعہ نے کہا کہ عنوان چشتی کی ادبی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ، ان کی تنقیدی نگارشات نے بعض ادبی فیصلوں کو از سر نو بدلنے اور غور کرنے کی دعوت دی۔ اردو اکیڈمی کے دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ عنوان چشتی ایک کثیرالجہات شخصیت تھے، موصوف کی نظم وثر بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی شعبہ اردو کے صدر پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ عنوان چشتی کی نثر میں ہمیں مشرقی اقدار کی بازیافت نظر آتی ہے ۔ موصوف کی نثر شفافیت اور معروضیت نیز وضاحت کی مکمل آئینہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شاگرد پوری دنیا میں کامیاب ہیں ۔ آج کے اس دور میں استاد بہت کم ملتے ہیں جو اپنے شاگرد کو محنت سے پڑھاتے ہیں ۔ دیوبند ڈگری کالج کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر الف ناظم نے کہا کہ پروفیسر عنوان چشتی فن اصلاح ّسخن اور عروج کے ایک مکمل دبستان ہیں ، ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کہ انہوں نے اس دور میں عرو ج کی اہمیت کو رجحان کو بڑی تقویت بخشی۔ انیس احمد حسینی انیس میرٹھی نے عنوان چشتی کی کتاب اردو میں کلاسیکی تنقید کے حوالے سے کہا کہ موصوف نے اردو کے بستانِ کلاسیکی تنقید اہمیت کو ایک بار پھر دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے۔ ڈاکٹر عادل حیات شعبہ اردو جامعہ ملیہ دہلی نے اپنے مقالے میں کہا کہ عنوان چشتی کی تحریریں اعتدال ، وضاحت اور قطعیت کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں۔ مولانا واحد نظام آبادی نے کہا کہ اطلاق علم عروج کو عنوان چشتی نے اس دور میں دوبارہ سے ایک تحریک بنادیا اور الحمدللہ نوواردان بساطِ سخن اس طرف متوجہ نظر آتے ہیں ۔ ڈاکٹر شگفتہ غز الی سابق افسر (خفیہ محکمہ) نے کہا کہ عنوان چشتی کی تحریریں جتنی پرکشش ہیں اتنی ہی ان کی شخصیت بھی جاذب نظر تھی۔ وہ ظاہر وباطن سے مالا مال ادبی شخصیت تھے۔ ڈاکٹراسلم قاسمی نے کہا کہ عنوان چشتی کی تنقید کسی ایک مکتبہ فکر کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ حیاتی ، جمالیاتی اور تا¿ثراتی عناصر کا خوبصورت نمونہ نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر اپادھیائے پرنسپل چمن لال ڈگری کالج نے کہا کہ عنوان چشتی کی تحریریں ہندی اور اردو کے درمیان پل کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کی عروج کے ساتھ پنگل شاستر بھی گہری نظر تھی۔ پروفیسر عنوان چشتی کے چھوٹے بھائی اور سیمینار کے کنوینر پروفیسر تنویر چشتی نے ان کی ذاتی زندگی کے اہم واقعات سناکر واضح کیا کہ عنوان چشتی انسانی رشتوں کا زبردست احترام کرتے تھے اور انہوں نے خالص اسلامی تصورِ اخلاق اور عظمت انسانیت کی مثال بن کر لوگوں کا دل جیتا، اس سیمینار کے انعقاد میں ڈاکٹر الف ناظم ، انیس ملک، تابش چشتی، سیف عثمانی، نیاز منگلوری، قمر منگلوری کا قابل قدر تعاون رہا۔ اس موقع پر تنویر قریشی، عبدالسمیع، قاری نسیم منگلوری، عبدالصمد انصاری، ونود کمار ایڈوکیٹ، زکی انجم، رضوان سلمانی، فہیم اختر صدیقی، فروز خان، حافظ عبدالصمد، مفتی معصوم قاسمی، مولانا مفتی عثمان، مولانا تنویر کے علاوہ اسکول اسٹاف موجود رہا۔ آخر میں پروگرام کے کنوینر پروفیسر تنویر چشتی نے سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ ہندوستھان سماچار#فہیم صدیقی
लोकप्रिय खबरें
फोटो और वीडियो गैलरी
image