Hindusthan Samachar
Banner 2 सोमवार, दिसम्बर 10, 2018 | समय 03:22 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

...تو بابری مسجد سے مسلمانوں کو دست بردار ہوجانا چاہئے: وسیم غازی

By HindusthanSamachar | Publish Date: Dec 8 2018 9:27PM
...تو بابری مسجد سے مسلمانوں کو دست بردار ہوجانا چاہئے: وسیم غازی
نئی دہلی ،8دسمبر(ہ س)۔ رام مندر کی تعمیر کو لے کر ہندو تنظیموں کی طرف سے نئی دہلی کے رام لیلا میدان میں بلائے گئے دھرم سنسد پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے رکن اور معروف سماجی کارکن وسیم احمد غازی نے آج کہا ہے کہ جو لوگ رام مندر معاملے پر دھرم سنسد بلا رہے ہیں ان کی منشا اس لئے ٹھیک معلوم نہیں ہوتی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کے سامنے کچھ ایسے ایشوز ہیں جس پر وہ خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کو دھرم سنسد اس بات پر بلانا چاہیے کہ جب گﺅ کشی ایک مہلک بیماری کی شکل اختیار کرچکی ہے اور اس کی آڑ میں معصوموں کو پھنسایا جارہا ہے اس کے باوجود کیوں نہیں سرکار گﺅ کشی پر ایک ایسا قانون لاتی ہے کہ گائے کے خریدنے اور بیچنے کو قومی جرم قرار دیا جائے جو بھی اس میں کسی طرح کی مدد کرے اس کو بھی پھانسی کے زمرے میں رکھا جائے ۔ وسیم غازی نے کہا کہ یہ لوگ ہندی ہندو ہندوستان کی بات کرتے ہیں لیکن اس بات پر کیوں نہیں سنسد بلاتے کہ ہندی کو قومی زبان قرار دیا جائے اور ہندی پڑھنے لکھنے اور بولنے کو لازمی قرار دیا جائے ، کیا ان کا ہندی پریم صرف چھلاوا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ لوگ فیملی پلاننگ پر خاموش کیوں ہیں؟ یہ لوگ اس بات کے لئے سرکار کو مجبور کیوں نہیں کرتے کہ چین کی طرح منٹو ریم لایا جائے اور فیملی پلاننگ کو ہربھارتیہ کے لیے لازمی قرار دے دیا جائے۔ وسیم غازی نے کہا کہ سبریمالہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود یہ خواتین کے داخلے پر واویلا مچا رہے ہیں اور عورتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں ۔کیوں نہیں خواتین کو سبریمالہ میں داخلے کی اجازت دی جاتی ۔کیا ان کا خواتین کی عزت کا دعویٰ بھی ڈھکوسلا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ باتیں یہ سرکار سے منوا لیتے ہیں اور سرکار بل لا کر قانون بناتی ہے اور اس کوقومی پیمانے پر عملی جامہ پہناتی ہے تو میرا مسلمانوں کو مشورہ ہے کہ وہ بابری مسجد سے اپنی عرضی واپس لے لیں، بہ صورت دیگر ان ہندتو کے ٹھیکیداروں کو چاہئے کہ مسجد مسلمانوں کو واپس لوٹا دیں۔انہوںنے کہاکہ حالانکہ اس کا حتمی فیصلہ بابری مسجد ایکشن کمیٹی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کو لینا ہے لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے۔ ہندوستھان سماچار#محمد خان
image