Hindusthan Samachar
Banner 2 शुक्रवार, दिसम्बर 14, 2018 | समय 05:49 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

شیوپال خیمہ میں جا سکتے ہیں سابق کابینی وزیر شیو کمار بیریا

By HindusthanSamachar | Publish Date: Dec 8 2018 9:28PM
شیوپال خیمہ میں جا سکتے ہیں سابق کابینی وزیر شیو کمار بیریا
سماج وادی پارٹی سے بے دخلی کے بعد حامیوں سے کررہے ہیں مشورہ کانپور، 08 دسمبر (ہ س)۔ سابق کابینی وزیر شیو کمار بےریا ایس پی سے نکالے جانے کے بعد اگلی اننگز کے لئے مسلسل اپنے حامیوں کے رابطے میں ہیں اورصلاح و مشورہ کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ پرگتی شیل سماجوادی پارٹی (لوہیا) میں جا سکتے ہیں۔ جنتا دل سے سیاسی اننگز شروع کرنے والے اور پانچ بار رکن اسمبلی رہے سابق کابینہ وزیر شیو کمار بےریا کو سماج وادی پارٹی نے گزشتہ دنوں پارٹی سے چھ سال کے لئے نکال دیا تھا۔ اس کے بعد سے ہی ان کی اگلی اننگز کے لئے سیاسی گلیاروں میں طرح طرح کی خبریں آرہی ہیں۔ کوئی بی جے پی سے جوڑ کر انہیں دیکھ رہا تو کوئی پی ایس پی (لوہیا)اور بی ایس پی سے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے حامیوں کے درمیان جانا شروع کر دیا اور مختلف جگہوں پر میٹنگ کرکے اگلی اننگز کی حکمت عملی پر حامیوں سے مشورہ کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں ہفتہ کو بھی جھین جھک اور رسول آباد میں ان کی میٹنگ ہو رہی ہے۔ بےریا کی کوشش ہے کہ اپنے اثر و رسوخ والے علاقے میں حامیوں کا پہلے ذہن ٹٹولا جائے، پھر اس کے بعد اگلی سیاسی اننگز کا آغاز کیا جائے۔ اس سے یہ سمجھا جا رہا ہے کہ وہ اگلی اننگز کے لئے جلدی میں فیصلہ نہیں لینا چاہتے۔ جبکہ ذرائع بتاتے ہیں کہ شیو کمار بےریا پی ایس پی صدر شیو پال سنگھ یادو سے مسلسل رابطے میں ہیں اور وہ پی ایس پی میں جا سکتے ہیں۔ پہلے تو یہ بھی بتایا جا رہا تھا کہ نو دسمبر کو لکھنو¿ میں منعقد ہونے والی ریلی میں وہ پی ایس پی میں شامل ہو سکتے ہیں پر ان کی بھاگ دوڑ کو دیکھتے ہوئے فی الحال یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ وہیں شیو کمار بےریا سے جب ہفتہ کو بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے حامیوں اور کارکنوں سے مشورہ کر رہے ہیں اور جو بھی مشورہ آئے گا اسی کے مطابق آگے قدم اٹھائے جائیں گے۔ بتاتے چلیں وہ سماجوادی پارٹی میںپسماندہ طبقے کا بڑا چہرہ تھے اور خاص طور پر کانپور شہر اور کانپور دیہات میں۔بےریا کانپور شہر اور کانپور دیہات سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور اسی کو دیکھتے ہوئے پی ایس پی انہیں اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی پرزور کوشش میں مصروف ہے۔ ہندوستھان سماچار#محمد خان
image