Hindusthan Samachar
Banner 2 शुक्रवार, दिसम्बर 14, 2018 | समय 07:25 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

جماعت اسلامی ہند نے ایس ایچ او سوبودھ کمار کے قتل کے سلسلے میں عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا

By HindusthanSamachar | Publish Date: Dec 8 2018 9:27PM
جماعت اسلامی ہند نے ایس ایچ او سوبودھ کمار کے قتل کے سلسلے میں عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا
نئی دہلی،08دسمبر( ہ س)۔ مرکز جماعت اسلامی ہند میں منعقد ہ ماہانہ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی ہند نے اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں ایس ایچ او سبودھ کمار سنگھ © کی پرتشدد ہجوم کے ذریعہ قتل کی مذمت کی۔کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے قائم مقام امیر نصرت علی نے کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بلند شہر میں ایس ایچ او سبودھ کمار کا قتل منصوبہ بند سازش کے تحت کیا گیا۔ ان کا قتل گائے کی لاش بر آمد ہونے کی وجہ سے مشتعیل بھیڑ کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کی عدالتی جانچ ہو۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ گﺅ کشی کی تحقیقات ہونی چاہیے ۔ ان کے اس بیان سے ایک مقتول پولس آفیسر کے سلسلے میں ان کی بے حسی اور غیر سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے، جنہوں نے ڈیوٹی نبھانے کے دوران اپنی جان کو قربان کر دیا۔ بابری مسجد کے متعلق جماعت اسلامی ہند کے موقف پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جناب نصرت علی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں اپنا فیصلہ جلد از جلد سنائے۔ معاملے کا تعلق آراضی ملکیت تنازعہ سے ہے اور جماعت امید کرتی ہے کہ فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ کچھ شخصیات اور تنظیمیں خود سا ختہ ثالث بنکر کافی عرصہ سے اپنے ایجنڈے کے مطابق مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیںلیکن کوئی کامیابی نہیں ملی ہے۔ جماعت اسلامی ہند بابری مسجدمسئلہ کو کورٹ کے باہر حل کرنے کی تجاویز کو نامناسب سمجھتی ہے۔سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ عد ا لت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے اور سبھی کو چاہیے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کریں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کو نافظ کرے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض تنظیمیں متنازاعہ آراضی کو حاصل کرنے کے لیے حکومت پر آرڈیننس لانے کے لیے دباو¿ بنا رہی ہیں۔ یہ اقدام جمہوری قدروں اور ہمارے سیکولر نظام کے خلاف ہوگا۔ کانفرنس کی ابتدا میں جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے میڈیا کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ دن دہاڑے پولس آفیسر کابے لگام بھیڑ کے ذریعہ قتل اور اس کا وڈیو کلپ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اتر پردیش کی قانون اور انتظامیہ پوری طرح ناکام ہے۔ وہ سماج دشمن عناصر جنہوں نے ایس ایچ او کا قتل کیا، اس بات سے پوری طرح واقف ہیں کے انھیں سیایسی رہنماو¿ں کی پشت پناہی حاصل ہے اور ضمانت پر رہا ہو جائیں گے۔ اس واقعہ کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو فرقہ کی بنیاد پر سماج میں تفریق پیدا کرنے والے ایجنڈے پر کام کرتے ہیں اور منافرت کی سیاست کر تے ہیں اور فاسسٹ اصولوں کے استعمال کے ذریعہ اقلیت اور دلت طبقات کو ڈرانے اور شبیہ بگاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حکومتیں بھی ان فرقہ پرست اور تفریقی منصوبہ کی طرف سے آنکھیں موندی ہیں جس کے نتیجہ میں ملک کا بیشتر حصہ بڑے پیمانے پر ہجومی حکمرانی اور انارکی کا شکار ہے۔ ایس ایچ او سبودھ کمار کے قتل کے زیادہ تر ملزمین ابھی بھی پولس کی گرفت سے باہر ہیں۔ جماعت اسلامی ہند مطالبہ کرتی ہے کے انھیں جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر و کردار تک پہنچایا جائے۔ جماعت اسلامی ہند ہمیشہ سے ان فاسسٹ اور سماج دشمن عناصر سے عوام کو آگاہ کرتی رہی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام ہند کو چاہیے کہ ان قوتوں کا سماجی اور سیاسی سطح پر مسترد کیا جائے۔ ہندوستھان سماچار#اویس
image