Hindusthan Samachar
Banner 2 शनिवार, नवम्बर 17, 2018 | समय 00:06 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

جشن وراثت اردو جیسے پروگراموں کا مقصد قومی یکجہتی کا ماحول قائم رکھنا ہے: سید شاہد مہدی

By HindusthanSamachar | Publish Date: Nov 10 2018 8:09PM
جشن وراثت اردو جیسے پروگراموں کا مقصد قومی یکجہتی کا ماحول قائم رکھنا ہے: سید شاہد مہدی
نئی دہلی،10نومبر(ہ س)۔ جشنِ وراثتِ اردو کے افتتاحی پروگرام میںجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق شیخ الجامعہ جناب سید شاہد مہدی صاحب نے فرمایا کہ اردو اکادمی کے زیر اہتمام جتنے بھی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، ان کا اپنا ایک معیار ہے، اپنے معیار سے اس ادارے نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ جشن وراثت اردو اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اس پروگرام کو اس طرح سے ترتیب دیا گیا ہے کہ اردو زبان وادب کا کوئی گوشہ مخفی نہیں رہے گا۔جشن وراثت اردو جیسے پروگراموں کا مقصد قومی یکجہتی کا ماحول قائم رکھنا ہے۔اردو زبان ایک تہذیب ایک تاریخ کا نام ہے۔ اس زبان سے دوری کا مطلب ہم اپنی تہذیب و ثقافت سے دور ہو جائیں گے۔ یہ جشن اردو زبان و ادب کے تہذیب و ثقافت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ میری خواہش ہوگی کہ اس طرح کے پروگرام میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہوں۔ اردو اکادمی کے وائس چیئر مین پروفیسر شہپر رسول نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا ہے کہ اس پروگرام کا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم اپنی تہذیبی روایات کو عام لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ ساتھ ہی مقابلہ جاتی پروگرام کا بھی انعقاد کیا گیا ہے۔ جس میں دہلی کی مختلف جامعات اور کالجز کے طلبہ و طالبات شریک ہوں گے۔ ساتھ ہی کچھ ایسے بھی ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں دلی کے چھوٹے چھوٹے بچے شریک ہوں گے۔ یہ سارے پروگرام روزانہ دوپہر بارہ بجے سے رات دس بجے تک ۱۵نومبر تک منعقد کیے جائیں گے۔انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ اس جشن میں اردو سے متعلق مختلف اصناف کے فنکار اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ اس جشن میں اردو کی زبانی روایات چہار بیت، قصہ گوئی کے ساتھ ساتھ بالی ووڈ کے مشہور فنکار سریش واڈیکر اور جاوید علی کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس جشن میں نوجوانوں کی دلچسپی کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ نوجوان اپنی شاندار تہذیبی روایات سے واقف ہو سکیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارے وزیراعلی اروندکیجریوال اور نائب وزیراعلی منیش سسودیا جی نے اردو کے فروغ کے لیے ہمیشہ سنجیدگی دکھائی ہے جس کے نتیجہ میں یہ چھ روزہ پروگرام ترتیب دینے میں ہم کامیاب ہوسکے ہیں۔افتتاحی پروگرام کے بعد ’ٹیلنٹ گروپ‘نے قصہ: ”قصوں کے اندر قصہ“ (الف لیلہ)پیش کیا۔ ننھے ننھے بچوں پر مشتمل یہ گروپ جس طرح سے اپنی فنکاری کا ثبوت دیا ہے، وہ یقیناً قابل ستائش ہے۔ اردو اکادمی اس طرح کی صلاحیتوں کے مالک فنکاروں کی ہمیشہ ہی سے حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہ گروپ اگلے چند دنوں تک اپنی فنکاری کا ثبوت دیتے رہیں گے۔اس کے بعد غزل سرائی کا مقابلہ ہوا۔ جس میں کل ۱۲شرکا نے شرکت کی۔ اس مقابلہ میں جج کے فرائض پروفیسر احمدمحفوظ اور پروفیسر کوثر مظہری نے اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر جاوید حسن نے انجام دیے۔ اس مقابلے کے بعد پروفیسر خالد محمود نے اہم نکات کی طرف اشارہ کیا، جس کی روشنی میں شرکائے مقابلہ آئندہ تیاری کر کے شریک ہوں، تاکہ اس کا نتیجہ مثبت انداز میں منظر عام پر آئے۔ اس طرح کے پروگرام کا ایک مقصد طلبہ و طالبات کی تربیت کرنا بھی ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے نتیجے کا اعلان کیا۔ سیف الرحمن،فیض الرحمن اور شروتی مشرا بالترتیب اول، دوم اور سوم انعام کے حقدار قرار پائے، جبکہ دو حوصلہ افزائی انعام ام حبیبہ اور مہتاب عالم کو دیاکیا گیا۔ تقسیم انعامات کی تقریب کا انعقاد ۱۵نومبر کو دوپہر بعد ڈھائی بجے ہوگا۔اس کے بعد چار بیت کی پیشکش عاصم خاں و ہمنوا اکھاڑا(رامپور)نے کی۔ محفل قوالی ارشد قطبی و عدنان قطبی نے پیش کیا۔ رشمی اگروال اور کانو پریا نے مہ جبیں(ساز اور آواز کے ساتھمینا کماری کو خراج عقید ت)پیش کیا ۔ محفل قوالی فرید صابری جے پوری و ہمنوا نے اس طرح سے پیش کی کہ شام گل و گلزار ہوگئی ،اس کے بعد شام غزل میں بالی وڈ کے مشہور فنکار سریش واڈیکر نے رات کو اور بھی مسحور کن بنا دیا۔سامعین و ناظرین اس طرح کے پروگرام سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ اس جشن کو دراصل گنگا جمنی تہذیب کے اعلی نمونے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے، جہاں مختلف فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت اس بات کی غماز ہے کہ لوگ اس طرح کے پروگرام سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے اس طرح کے پروگرام بہت معاون ثابت ہوں گے۔ اس موقع پرپروفیسر خالد محمود، پروفیسر احمد محفوظ،پروفیسر کوثر مظہری کے علاوہ اور معزز شخصیات نے شرکت فرمائی۔ اکادمی کے اراکین نے جس خوش اخلاقی سے لوگوں کا استقبال کیا، یہ بھی اسی تہذیبی رویہ کا عملی ثبوت ہے۔ ہندوستھان سماچار اویس
image