Hindusthan Samachar
Banner 2 शुक्रवार, नवम्बर 16, 2018 | समय 23:39 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

آسٹریلیا: ملبورن میں چاقو بردار حملہ آور داعش سے ’متاثر‘ تھا، پولیس

By HindusthanSamachar | Publish Date: Nov 10 2018 7:51PM
آسٹریلیا: ملبورن میں چاقو بردار حملہ آور داعش سے ’متاثر‘ تھا، پولیس
ملبورن،10نومبر(ہ س)۔ ملبورن میں چاقو بردار حملے کے ملزم سے متعلق پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور دہشت گرد تنظیم ''داعش'' سے متاثر تھا لیکن اس کا براہ راست تنظیم سے کوئی واسطہ نہیں تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے ''سی این این'' کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ میلبورن میں چاقو بردار حملہ آور کے انتہا پسند خیالات سے واقف تھے، لیکن اسے کبھی خطرناک نہیں سمجھا گیا تھا۔ 30 سالہ حسن خالد شیر علی کا پاسپورٹ 2015 میں اس وقت منسوخ کیا گیا تھا جب حکام کو اس کے شام جانے کے منصوبے کی اطلاع ملی تھی۔ آسٹریلیا کے فیڈرل پولیس کمشنر ایان میک کارنے نے صحافیوں کو بتایا کہ وکٹورین جوائنٹ کاو¿نٹر ٹیرارزم ٹیم حملہ آور سے واقف تھی، لیکن اس پر کبھی نظر نہیں رکھی گئی۔ سائٹ انٹیلی جنس گروپ نے بتایا تھا کہ داعش نے اپنے میڈیا ونگ ''عماق'' کے ذریعے میلبورن میں چاقو بردار حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، تاہم اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ ایان میک کارنے کا کہنا تھا کہ حملہ آور داعش سے صرف متاثر تھا اور اس کا براہ راست اس گروہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ تحقیقات میں ان بنیادی چیزوں کو مدنظر رکھا جائے گا کہ کیسے، کہاں، کیوں اور کب وہ انتہا پسندی کی طرف آیا اور اس نے یہ اقدام اٹھایا‘۔خیال رہے کہ گزشتہ روز آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں چاقو بردار شخص نے حملہ کرکے ایک شخص کو ہلاک جبکہ 2 کو زخمی کردیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ حملے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جبکہ دیگر دو زخمیوں کی سرجری ہوئی اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے کی شناخت میلبورن کے ایک معروف اطالوی ریسٹورنٹ کے مشترکہ مالک سستو مالاس پنا کے طور پر ہوئی تھی۔وکٹوریہ کے اسٹیٹ پریمیئر ڈینیئل اینڈریوز نے اس حملے کو ''شیطانی'' قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ شہر اس طرح کے حملوں کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔ ہندوستھان سماچار
image