Hindusthan Samachar
Banner 2 रविवार, जुलाई 22, 2018 | समय 22:02 Hrs(IST) Sonali Sonali Sonali Singh Bisht

پی ایم مودی کے پروگرام سے راماکانت کی دوری ، ایس پی میں واپسی کے قیاس

By HindusthanSamachar | Publish Date: Jul 14 2018 1:18PM
پی ایم مودی کے پروگرام سے راماکانت کی دوری ، ایس پی میں واپسی کے قیاس
اعظم گڑھ،14 جولائی (ہ س)۔ یوپی کی سیاست میں ایک اور اہم تبدیلی ہونے کے امکانات قوی ہو گئے ہیں۔ یادو¿وں کے درمیان شیر پوروانچل کے نام سے مشہور سابق ممبر پارلیمنٹ رماکانت یادو نے بی جے پی سے تقریباً اپنا رشتہ ختم کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راماکانت یادو مودی کے ریلی سے مسلسل خود کو دور رکھے ہوئے ہیں۔ ابھی تک راماکانت یادو کسی بھی میٹنگ یا ریلی میں نظرنہیں آئے ۔ یہاں تک کہ وزیراعلیٰ یوگی کی آمد پر تقریب گاہ میں بھی نہیں دکھائی دیئے۔ اس سے یہ بحث عام ہو گئی ہے کہ رماکانت یادو بی جے پی میںاہمیت نہیںدیئے جانے کی وجہ سے اب سماجوادی پارٹی میں واپسی کے لئے کوشش کر رہے ہیں، جبکہ یہ وہی رماکانتہیں جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ سماجوادی پارٹی میں وہ تو دور ان لاش بھی نہیں جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ راماکانت یادو 2004 میں ایس پی میںتنہا پڑگئے تھے۔ امر سنگھ، بلرم یادو اور درگا یادوکی مخالفت کی وجہ سے انہیں ایس پی کو چھوڑ کر بی ایس پی کا دامن تھامنا پڑا تھا۔ بی ایس پی نے رماکانت یادو کو 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں اعظم گڑھ سے الیکشن لڑایا تھا اور وہ رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے لیکن بی ایس پی میں بھی ان کی نہیں بنی اور کاروباری مقاصد کی تکمیل نہ ہونے کے سبب رماکانت یادو سال 2008 میں بی ایس پی چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ بی جے پی ضلع یونٹ راماکانت کو پارٹی میں لینے کے خلاف تھی لیکن گورکھناتھ پیٹھ کے مہنت یوگی آدتیہ ناتھ کے دباﺅ کے آگے پارٹی کو جھکنا پڑا تھا۔ راماکانت کو نہ صرف پارٹی میں شاملکیا گیا بلکہ 2008 کے انتخابات میں لوک سبھا میں بھی انہیں امیدوار بنا یا گیا تھا رماکانت یادو یہ انتخاب بی ایس پی کے اکبر احمد ڈمپی سے ہار گئے۔اس کے بعد سال 2009 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے رماکانت کو میدان میں اتارا گیا اور وہ اعظم گڑھ سے بی جے پی کے پہلے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے لیکن مرکز میں کانگریس کی حکومت بنی۔2014 کے انتخابات میں رماکانت یادوپھر بی جے پی کے ٹکٹ پر میدان میں اترے لیکن ایس پی نے اس سیٹ سے ملائم سنگھ کو میدان میںاتار دیا۔ اس کے نتیجہ میں رماکانت ایک بار پھر الیکشن ہار گئے۔بی جے پی کی مرکز میں حکومت بنی اور پوروانچل میں بی جے پی کو محض اسی سیٹ پر ہار ملی جس کی وجہ سے رماکانت کو حکومت میں جگہ نہیں ملی ۔ ویسے رماکانت کا ٹھیکیداری کا دائر ہ کافی پھیل گیا لیکن رماکانب اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور سال 2016میں پارٹی کے خلاف ہی بغاوت شروع کر دی۔ سب سے پہلے انہوںنے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ پر حملہ بولا اور الزام عائد کیا کہ ملائم سنگھ کے ساتھ سازش کر سال 2014 میں خود وزیر اعظم بننا چاہتے تھے لیکن اکثریت ملنے کی وجہ سے پسماندہ ذات کے نریندر مودی کو وزیراعظم بننے کا موقع ملا۔ یہ معاملہ کسی طرح ٹھنڈا ہوا.۔سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں رماکانت یادو نے بیوی، بہو سمیت پانچ افراد کے لئے ٹکٹ کی مانگ کی لیکن پارٹی نے انہیں صرف ایک ٹکٹ دیا۔ اس کے بعد پھر رماکانت نے میڈیا کے سامنے بغاوت شروع کردی لیکن دو دن بعد ہی ٹھنڈے پڑ گئے۔ اس وقت رماکانت نے دعوی کیا کہ وہ آزاد امیدوار اتاریں گے اور اگر ان کے امیدوار کو بی جے پی سے کم ووٹ ملا تو لوک سبھا کے لئے ٹکٹ نہیں مانگیں گے اورپارٹی کے لئے کام کرتے رہیں گے۔ رماکانت نے اپنے بھائی کیبہو ارچنا کو دیدارگنج سے آزاد امیدوار کے طور پرانتخابی میدان میں بھی اتارا لیکن وہ چھ ہزار ووٹ بھی حاصل نہیں کر سکیں جبکہ بی جے پی امیدوار کو قریب 40 ہزار ووٹ ملے۔ یہ رماکانت کے لئے بڑا جھٹکا تھا۔ اس کی وجہ بی جے پی کویوپی میں 325 سیٹیں ملنا تھا۔ جب یوپی حکومت میں بھی رماکانت کی نہیں چلی تو انہوں نے سی ایم یوگی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جب رماکانت کی پوکلےن غیر قانونی کان کنی میں پکڑی گئی اور رماکانت مکمل طور باغی ہوگئے۔ اس کے بعد سے ہی رماکانت یادو سماجوادی پارٹی میں واپسی کی کوشش کر رہے ہیں۔ رماکانت یادو اب تک ایس پی لیڈر ابو عاصم اعظمی، پروفیسر رام گوپال یادو، سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے ساتھ میٹنگ کر چکے ہیں لیکن ان کی ایس پی میں واپسی نہیں ہو پائی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سماج وادی پارٹی میں ان کے مخالفین آج بھی ہیں جو نہیں چاہتے راماکانت واپس آئیں۔ وہیں رماکانت یادو کو ڈر ستا رہا ہے کہ بی جے پی 2019 میں انہیں ٹکٹ نہیں دے گی۔ لہٰذا وہ مسلسل ایس پی کے لیڈروں سے رابطہمیں ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو یہی وجہ ہے کہ رماکانت یادو مسلسل مودی کے پروگرام سے فاصلہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ کہیں بی جے پی میں ان کی سرگرمی ایس پی میں واپسی کی راہ بند نہ کر دیں۔ رماکانت نے اب تک بی جے پی کے اعلیٰ ذات لیڈروں کی کھل کر مخالفت کی ہے لیکن وزیر اعظم مودی کے خلاف کبھی کچھ نہیں بولے بلکہ انہیں اچھا لیڈر اورپسماندہ طبقات کا ہمدرد بتاتے رہے ہیں ۔ان کے پروگرام سے دوری بنا کر رماکانت نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ سماج وادی پارٹی سے ہری جھنڈی ملنے کی وجہ سے رماکانت یادو ایسا کر رہے ہیں۔ ابھی ذہنی طور پر انہوں نے بی جے پی سے ناطہ توڑ لیا ہے ،بس ایس پی میں واپسی کا اعلان باقی ہے۔ ویسے رماکانت یادو اب اس مسئلے پر کچھ بولنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ہندوستھان سماچارمحمد شہزاد
image